کوئٹہ میں 20 جنوری 2026 کو ہونے والے گرینڈ الائنس بلوچستان کے ریڈ زون دھرنے کے سلسلے میں باقاعدہ ہدایت نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔ ہدایت نامے میں گرینڈ الائنس بلوچستان میں شامل تمام ملازمین، تنظیموں اور مرکزی، ڈویژنل و ضلعی ذمہ داران کو دھرنے کی تیاریوں اور شرکت سے متعلق واضح ہدایات دی گئی ہیں۔
ہدایت نامے کے مطابق تمام مرکزی، ڈویژنل اور ضلعی ذمہ داران اپنے اپنے اضلاع سے آنے والے ملازمین کی رہائش، قیام، طعام اور دیگر ضروری انتظامات پیشگی مکمل کریں گے۔ تمام تنظیموں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں اجلاس منعقد کر کے دھرنے میں شرکت کرنے والے ملازمین کی مستند فہرستیں مرتب کریں اور بھرپور تیاری کے ساتھ دھرنے میں شرکت یقینی بنائیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دھرنے میں شرکت نظم و ضبط، تنظیمی ہم آہنگی اور اجتماعی ذمہ داری کے تحت ہوگی جبکہ تمام ملازمین مرکزی قیادت کی جانب سے جاری کردہ احکامات اور ہدایات کے پابند ہوں گے۔ ریڈ زون دھرنے کے مقام کا حتمی تعین مرکزی قیادت کرے گی جس سے متعلق بروقت آگاہی دی جائے گی۔
مزید کہا گیا ہے کہ تمام ضلعی آرگنائزنگ باڈیز مرکزی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطہ اور مؤثر ہم آہنگی برقرار رکھیں گی۔ ریلیوں اور جلوسوں کے دوران نظم و ضبط، پُرامن ماحول اور تنظیمی تشخص کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ کسی بھی غیر متعلقہ سرگرمی یا بے ترتیبی کی صورت میں متعلقہ سیکیورٹی یا انتظامی کمیٹی کو فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ہدایت نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ گرینڈ الائنس بلوچستان میں شامل تمام تنظیمیں اپنے اپنے اضلاع میں فوری طور پر ہنگامی چندہ مقرر کریں گی تاکہ دھرنے اور دیگر ضروری انتظامات بروقت مکمل کیے جا سکیں۔ سیکیورٹی اور انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر اہم انتظامات کا حتمی اختیار ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کوئٹہ کے پاس ہوگا، جو اس حوالے سے فوری ہنگامی اجلاس طلب کرے گی۔
اعلامیے کے آخر میں تمام تنظیموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اتحاد، نظم و ضبط اور پوری قوت کے ساتھ 20 جنوری 2026 کے ریڈ زون دھرنے میں شرکت کریں۔ گرینڈ الائنس بلوچستان کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ احتجاج مکمل طور پر پُرامن، آئینی اور جمہوری ہوگا، اور ملازمین کا باشعور طبقہ ہر قسم کے جبر اور کریک ڈاؤن کے باوجود پُرامن جدوجہد پر یقین رکھتا ہے۔
ہدایت نامے پر جنرل سیکرٹری بلوچستان، حاجی علی اصغر بنگلزئی کے دستخط ثبت ہیں۔



Leave a Reply