اسپلنجی (تحصیل دشت، ضلع مستونگ):
گورنمنٹ انٹر کالج اسپلنجی کی جدید اور مکمل عمارت گزشتہ چار سے پانچ سال قبل تعمیر ہو چکی ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود یہ تعلیمی ادارہ تاحال فعال نہ ہو سکا۔ آج بھی یہ عمارت طلبہ کی راہ دیکھ رہی ہے، جبکہ علاقے کے نوجوان بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد میں رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسپلنجی اور گردونواح کے بیشتر طلبہ و طالبات کا تعلق غریب اور متوسط طبقے سے ہے، جو مالی مجبوریوں کے باعث میٹرک کے بعد دور دراز علاقوں میں جا کر تعلیم حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ہر سال متعدد ہونہار طلبہ محض سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے اپنی تعلیمی جدوجہد ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
کالج کی عمارت کی تکمیل کے وقت علاقے میں خوشی اور امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی تھی۔ والدین اور طلبہ کو یقین تھا کہ اب انہیں اپنے ہی علاقے میں اعلیٰ تعلیم کی سہولت میسر آئے گی، مگر پانچ برس گزرنے کے باوجود ادارے کا غیر فعال رہنا ان امیدوں کو مایوسی میں بدل چکا ہے۔ یہ تاخیر نہ صرف نوجوان نسل کے قیمتی وقت کا ضیاع ہے بلکہ ان کے روشن مستقبل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بھی بن چکی ہے۔
علاقے کے عوام، سماجی حلقوں اور طلبہ نے حکومتِ وقت اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ انٹر کالج اسپلنجی کو فوری طور پر فعال کیا جائے، تدریسی عملہ تعینات کیا جائے اور داخلوں کا آغاز کیا جائے، تاکہ غریب اور باصلاحیت طلبہ و طالبات کو اپنے علاقے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع میسر آ سکے۔
عوام کا کہنا ہے کہ تعلیم محض ایک سہولت نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ ہے، اور اسپلنجی کے بچے بھی اس بنیادی حق کے اتنے ہی حقدار ہیں جتنا ملک کے دیگر علاقوں کے نوجوان۔
یہ صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ سینکڑوں خوابوں اور ایک پوری نسل کے مستقبل کا سوال ہے۔



Leave a Reply