کوئٹہ: ملک بھر کی طرح کوئٹہ میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت بڑھ کر تقریباً 458 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
عوام پر براہِ راست اثرات
کوئٹہ جیسے شہر، جہاں پہلے ہی مہنگائی اور محدود آمدن کے مسائل موجود ہیں، اس اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
- ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری اضافہ
- سبزیوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں متوقع اضافہ
- روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد پر اضافی بوجھ
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول مہنگا ہونے سے نہ صرف سفر بلکہ روزمرہ زندگی کے تمام اخراجات بڑھ گئے ہیں۔
وجوہات کیا ہیں؟
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، اس بحران کی بڑی وجہ ہے۔ پاکستان چونکہ تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کا براہِ راست اثر یہاں پڑتا ہے۔
کوئٹہ میں کاروباری سرگرمیاں متاثر
- مال برداری مہنگی ہونے سے کاروبار سست روی کا شکار
- پبلک ٹرانسپورٹ مالکان نے کرایوں میں اضافے کا عندیہ دے دیا
- چھوٹے دکانداروں نے بھی قیمتیں بڑھانا شروع کر دیں
حکومتی مؤقف
حکومت کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کے باعث سبسڈی دینا ممکن نہیں رہا، تاہم کچھ مخصوص شعبوں کے لیے ریلیف پیکج پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ نہ صرف کوئٹہ بلکہ پورے بلوچستان کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بن چکا ہے۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کی یہ لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔



Leave a Reply