کوئٹہ////سردارانِ سراوان کی سردار ساتکزئی ہاؤس میں ایک اہم نشست منعقد ہوئی جس میں بلوچستان کے موجودہ حالات، ان حالات میں سردارانِ سراوان کی ذمہ داریاں، اور مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن کا حصہ بنانے جبکہ ضلع کچھی کو سبی ڈویژن کا حصہ بنانے کے حکومتی فیصلے جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔
بلوچستان ایک کثیرالقومی صوبہ ہے جہاں مختلف قبائل صدیوں سے اپنی قائم رسومات، روایات اور باہمی احترام کے ساتھ آباد ہیں۔ تاہم موجودہ حالات قبائل کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے، جہاں عوام کے جان و مال اور عزت کے تحفظ کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں قبائلی سربراہان کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں
*اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ صورتحال میں قبائلی قیادت کو اپنے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانی چاہیے اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ جرگے میں اس حوالے سے مختلف تجاویز پر غور و خوض کیا گیا اور مستقبل قریب میں عملی اقدامات اٹھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
*مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کے معاملے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اور اس حوالے سے مستونگ میں ایک اہم جرگہ طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں قبائلی معتبرین، میڈیا، وکلا برادری اور ضلع کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کو مدعو کیا جائے گا۔ اس جرگے میں مستونگ کو دوبارہ قلات ڈویژن میں شامل کرنے کے حوالے سے تجاویز اور عملی اقدامات پر غور کیا جائے گا
اس موقع پر چیف آف بیرک سابق صوبائی وزیر نواب محمد خان شاہوانی، سابق ایم این اے سردار کمال خان بنگلزئی، سردار عظیم جان محمد شہی، سردارزادہ جاوید عزیز لہڑی, سردار محمدعاصم سرپرہ, سردار شیربازخان ساتکزئی شریک ہوئے





Leave a Reply